ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بے نتیجہ مذاکرات سے سپریم کورٹ مایوس،کمیٹی کی تشکیل کااشارہ،سماعت آج بھی ہوگی

بے نتیجہ مذاکرات سے سپریم کورٹ مایوس،کمیٹی کی تشکیل کااشارہ،سماعت آج بھی ہوگی

Mon, 11 Jan 2021 20:08:00    S.O. News Service

نئی دہلی11جنوری(آئی این ایس انڈیا) زرعی قانون کے بارے میں کسانوں کی تحریک پر مرکزی حکومت کے رویہ سے سپریم کورٹ مایوس ہے۔ سپریم کورٹ میں اس معاملے پر جاری سماعت کے دوران عدالت نے مرکزی حکومت سے پوچھاہے کہ کیا آپ قانون کوروکیں گے ورنہ ہمیں یہ کرنا ہوگا۔ عدالت نے پوچھاہے کہ کیا یہ نیا زرعی قانون کچھ دن نہیں رک سکتا؟ کیوں کہ ہم نہیں جانتے کہ کسانوں اورحکومت کے مابین کیا چل رہا ہے۔

عدالت نے کہاہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ آپ مسئلے کا حصہ ہیں یا حل کاحصہ ہیں۔سپریم کورٹ نے اب حکومت اور فریقین سے کچھ نام بتانے کو کہا ہے۔ تاکہ انہیں کمیٹی میں شامل کیا جاسکے۔اب کمیٹی یہ بتائے گی کہ قوانین عوام کے مفاد میں ہیں یا نہیں۔ اب کل اس معاملے پردوبارہ سماعت ہوگی، کمیٹی ہی پر کل ہی فیصلہ لیا جاسکتا ہے۔عدالت میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ہم تحریک ختم نہیں کرناچاہتے، آپ اسے جاری رکھ سکتے ہیں۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ اگر قانون رْک گیا توکیاآپ رپورٹ آنے تک احتجاج کی جگہ تبدیل کریں گے؟ اگر کچھ غلط ہوا تو ہم سب ذمہ دار ہوں گے۔ اگر کسان احتجاج کر رہے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ کمیٹی اس کو حل کرے۔ ہم کسی کا خون ہاتھ پرنہیں لینا چاہتے ہیں۔ لیکن ہم کسی کو احتجاج کرنے سے روک نہیں سکتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے عدالت میں کہا گیا کہ اس طرح سے کسی قانون پرپابندی نہیں لگائی جاسکتی ہے۔ اس پر عدالت نے کہاہے کہ ہم حکومت کے رویہ سے ناراض ہیں اور ہم اس قانون کو روکنے کی پوزیشن میں ہیں۔ عدالت نے کہاہے کہ اب کسان اپنی پریشانی کمیٹی کو بتائیں گے۔سپریم کورٹ نے کہاہے کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ ہم کسی بھی قانون توڑنے والے کی حفاظت کریں گے، قانون کے مطابق قانون توڑنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ ہم صرف تشدد کو ہونے سے روکناچاہتے ہیں۔

عدالت میں اے جی نے کہاہے کہ کاشتکار 26 جنوری کو راج پتھ پر ٹریکٹر مارچ کریں گے، اس کا ارادہ یوم جمہوریہ پریڈ کومتاثرکرنا ہے۔ کسانوں کے وکیل دشینت دیو نے کہاہے کہ ایسا نہیں ہوگا، راج پتھ پرکوئی ٹریکٹر نہیں چلے گا۔چیف جسٹس نے سماعت کے دوران کہاہے کہ حکومت کی استدعا نہیں چلے گی کہ اسے کسی اور حکومت نے شروع کیاتھا۔آپ کس طرح حل کر رہے ہیں؟ حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایاہے کہ 41 کسان تنظیمیں قانون واپس لینے کا مطالبہ کررہی ہیں، بصورت دیگر وہ تحریک جاری کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے پاس ایک بھی دلیل نہیں ہے جس میں اس قانون کی تعریف کی گئی ہے۔ عدالت نے کہاہے کہ ہم کسانوں کے معاملے میں ماہرنہیں ہیں، لیکن کیا آپ ان قوانین کو روکیں گے یا ہمیں اقدامات کرنا چاہیے۔ حالات مسلسل بدتر ہوتے جارہے ہیں، لوگ مر رہے ہیں اور سردی میں بیٹھے ہیں۔ وہاں کھانے اور پانی کی دیکھ بھال کون کر رہا ہے؟سپریم کورٹ نے پوچھا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ خواتین اور بڑوں کو وہاں کیوں روکا جارہا ہے، ایسی سردی میں یہ کیوں ہورہا ہے۔ہم ہے ایک ماہر کمیٹی بنانا چاہتے ہیں، تب تک حکومت ان قوانین کو روک دے گی ورنہ ہم کارروائی کریں گے۔

چیف جسٹس نے کہاہے کہ ہم قانون واپس لینے کی بات نہیں کر رہے ہیں، ہم پوچھ رہے ہیں کہ آپ اسے کس طرح سنبھال رہے ہیں۔ ہم یہ نہیں سننا چاہتے کہ عدالت میں یہ معاملہ حل ہوا ہے یا نہیں۔ ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ کیا آپ اس معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرسکتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے تو آپ کہہ سکتے تھے کہ جب تک مسئلہ حل نہیں ہوتاآپ اس قانون کونافذنہیں کریں گے۔ 


Share: